
یہ کریش لینٹر ڈالنے اور کچے کرنے کے لیے ٹھیک ہے اس کا سائز تین سوتر اور آدھی انچ سے بڑا ہوتا ہے یہ سریے کی اندر ٹھیک سے ایڈجسٹ ہو جاتی ہے یہ عام کریش ہے اس میں تھوڑا بہت ڈسٹ مٹی شامل ہوتی ہے کیونکہ اس کا ریٹ کم ہوتا ہے ہمرا مشورہ ہے کہ اسے کچے کرنے میں استعمال کیا جائے اگر آپ لینٹر یا کالم بنا رہے ہیں تو پیور پلانٹ کا مال یا مارگلہ کریش کا استعمال بہتر ہے پورا ڈمپر کا سائز ۹۰۰ فٹ ہوتا ہے ، مگر اس مکی پئمائش میں لوگ کافی دھاندلی یا بے ایمانی کر جاتے ہیں ، نمبر ایک مال پورا نہیں ہوتا ، مال ذیادہ باتا دیتے ہیں ، پلانٹ کریش کی جگہ عام مال اتار جاتے ہیں ، ڈمپر خالی کرتے وقت کچھ کریش واپس لے جاتے ہیں اس طرح بہت سی باتیں ہوتی ہیں جو عام کسٹمر کو کافی نقصان پہنچ سکتا ہے ، پورا ڈمپر جس کا معیار پورا اور پمائش پوری ہو یا پرچون میں لینے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
یہ تعمیراتی کام میں استعمال ہونے والی باریک بجری ہے جس کا سائز 2 سوتر (تقریباً 6 ملی میٹر سے 10 ملی میٹر) ہوتا ہے۔ یہ عام موٹی بجری سے چھوٹی ہوتی ہے۔ اہم خصوصیات اور استعمال ٹف ٹائلز (Tuff Tiles): یہ بجری سب سے زیادہ ٹف ٹائلز اور پیور بلاکس بنانے میں استعمال ہوتی ہے۔ فرش کی پختگی: گھروں کے فرش (Flooring) ڈالنے اور کچے فرش کو مضبوط بنانے کے لیے بہترین ہے۔ لنٹل اور کالم: جہاں باریک کنکریٹ کی ضرورت ہو، وہاں اسے ریت اور سیمنٹ کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاتا ہے۔ فنیشنگ: اس کے استعمال سے کنکریٹ کی سطح ہموار (Smooth) آتی ہے۔ اگر آپ کی چھت لیک کر رہی ہو تو پین کریش استعمال کر سکتے ہیں کیونکہ اس کا سائز چھوٹا ہونے کی وجہ سے چھت پر وزن کم اور میٹریل بھی کم استعمال ہوتا ہے اور کام پورا کرتی ہے ، پورا ڈمپر ، جس کا سائز ۹۰۰ فٹ تک ہوتا ہے یا پرچون میں لینے کے لیے ابھی رابطہ کریں
دریائے چناب کی ریت اپنی منفرد خصوصیات اور تعمیراتی اہمیت کی وجہ سے پاکستان بھر میں مشہور ہے۔ اسے عام طور پر "چناب کی ریت" یا "چناب سینڈ" کہا جاتا ہے باریک اور صاف: دریائے چناب کی ریت دیگر دریاؤں (جیسے راوی) کے مقابلے میں زیادہ صاف اور باریک ہوتی ہے۔ رنگت: اس کا رنگ ہلکا بھورا یا مٹیالا ہوتا ہے، جو کہ اعلیٰ معیار کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ مضبوطی: تعمیراتی ماہرین کے مطابق اس ریت میں مٹی کی مقدار کم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ سیمنٹ کے ساتھ مضبوط گرفت پیدا کرتی ہے لستر (Plastering): گھروں اور عمارتوں کے اندرونی و بیرونی پلستر کے لیے چناب کی ریت کو بہترین سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ دیواروں کو ہموار سطح فراہم کرتی ہے۔ چنائی (Masonry): اینٹوں کی چنائی میں باریک ریت کا استعمال جوڑوں کو مضبوط بناتا ہے۔ کنکریٹ: لینٹر اور کالموں کی بھرائی میں بھی اسے مخصوص تناسب کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے تاکہ تعمیر پائیدار ہو
اپنی منفرد خصوصیات اور تعمیراتی اہمیت کی وجہ سے پاکستان بھر میں مشہور ہے۔
-سے حاصل کی جاتی ہے (bed) -راوی ریت پاکستان، خاص طور پر لاہور اور گردونواح میں تعمیراتی کاموں کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ریت ہے۔ یہ دریاۓ راوی کے بی
استعمال (Uses)
پلستر اور چنائ
کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے (masonry) اس کی باریکی کی وجہ سے اسے دیواروں پر پلستر کرنے اور اینٹوں کی چنائی ۔
بھرائی (Filling)
سستی ہونے کی وجہ سے اسے مکان کی بنیادوں کی بھرائی اور زمین کو لیول کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ فرش کی تیاری: فرش ڈالنے سے پہلے نیچے کی تہہ بنانے کے لیے بھی روی ریت استعمال ہوتی ہے۔ راوی کا گسو بھی آتا ہے مگر فلحال بات ریت کی ہو رہی ہے ، راوی ریت چناب کی ریت کے مقابلے میں باریک ہوتی ہے ، اس میں مٹی ہو سکتی ہے اس لیے اسے لینٹر یا مظبوط کام کے لیے کم استعمال کیا جاتا ہے عام طور پر اس کا رنگ سرمئی ہوتا ہے ، راوی کی ریت چناب سے کافی سستی ہوتی ہے مگر کئی دفعہ ریت بہت صاف نکل رہی ہوتی ہے ، اگر آپ لینٹر یا پلستر کر رہے ہیں تو پہلے معلوم کریں ریت کیسی آ رہی ہے اگر صاف نہیں آ رہی تو چناب